Posts

Showing posts from May, 2025

Trump made an offer to Pakistan and India

Image
  اوول ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈٹرمپ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان اب ایک دوسرے پر حملے بند کریں اور دونوں ممالک میں بڑھتے ہوئے اختلافات کو دور کرنے میں مدد کی پیشکش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں ابھی حملے بند ہونے چاہئیں جس کے لیے میری ضرورت ہے تو کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہوں۔ گزشتہ روز بھارتی حملے پر اپنے ابتدائی بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی شرم کی بات ہے، ہم نے ابھی پاکستان کے خلاف بھارت کے حملوں کے بارے میں سنا ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں، میں پاکستان اور بھارت کی قیادت سے مسلسل رابطے میں ہوں۔ مارکو روبیو کا اپنے ردعمل میں کہنا تھا کہ پُرامن حل کیلئے پاکستان اور بھارت کی قیادت سے بات چیت کررہے ہیں، صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی جلد ختم ہو۔

PM says Pakistan has made 'reply from our side'

Image
  پی ایم یہ کہتے ہوئے شروع کرتے ہیں کہ کل رات، بھارت نے پاکستان پر حملہ کرکے غلطی کی، اور کہا کہ ’’انہیں بدلہ چکانا پڑے گا‘‘۔ وہ کہتے ہیں کہ شاید بھارت نے سوچا تھا کہ پاکستان پیچھے ہٹ جائے گا، لیکن بھارت یہ بھول گیا کہ یہ وہ قوم ہے جو اپنے ملک کے لیے لڑنا جانتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فضائیہ نے اپنا دفاع کیا - پاکستان کے دعوے کا حوالہ ہندوستانی جیٹ طیاروں کو مار گرانے کے ہے، جس کی دہلی نے تصدیق نہیں کی ہے - جو ان کے بقول "ہماری طرف سے ان کو جواب" ہے۔

India First Attack On Bhawalpur

 

Watch Today PSL Match

سیاہ چادر

 سیاہ چادر   رمضان کی آخری رات تھی۔ پورا شہر روشنیوں سے جگمگا رہا تھا، لیکن ان روشنیوں سے دور، شہر کے پسماندہ علاقے میں ایک لڑکی خاموشی سے چادر اوڑھے بیٹھی تھی — اس کا نام نور تھا۔ نور کی آنکھوں میں اندھیرا تھا، لیکن دل میں امید کی کرن۔ وہ نابینا تھی، مگر زندگی سے بے خبر نہیں۔ روزہ رکھتی، قرآن سنتی، اور لوگوں کی باتوں میں خدا کی مصلحت ڈھونڈتی۔ اُس کی ماں ایک گھروں میں صفائی کرنے والی عورت تھی۔ عید کے قریب کام زیادہ ہو جاتا، اور نور دن بھر تنہا بیٹھی رہتی۔ لیکن اُس رات کچھ خاص تھا۔ دروازے پر دستک ہوئی۔ نور نے آہستہ سے پوچھا: “کون؟” ایک نرم مردانہ آواز آئی: “میں رضوان ہوں… آپ کی ماں کے کام والی بیگم صاحبہ کا بیٹا۔ امی نے کہا تھا کہ آپ کو عید کے کپڑے دینے آؤں۔” نور نے دروازہ کھولا تو رضوان نے ایک شاپر اُس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ اُس کی آواز میں ہچکچاہٹ تھی، جیسے کچھ کہنا چاہتا ہو۔ “آپ… آپ واقعی کچھ دیکھ نہیں سکتیں؟” نور مسکرائی۔ “نہیں، لیکن محسوس کر سکتی ہوں۔” رضوان خاموش ہو گیا، پھر بولا: “میں نے آپ کو پہلی بار سنا تھا، جب آپ قرآن سنا رہی تھیں… تب ہی دل میں کچھ بدل گیا تھا۔” نور ک...

آواز

آواز زہرہ کو آوازیں سنائی دیتی تھیں — ایسی آوازیں جنہیں کوئی اور نہیں سن سکتا تھا۔ نہ وہ پاگل تھی، نہ وہم کا شکار۔ وہ بس… مختلف تھی۔ شروع میں تو یہ آوازیں دھندلی سی ہوتی تھیں، جیسے کوئی فاصلے سے اُس کا نام پکار رہا ہو۔ پھر یہ واضح ہونے لگیں۔ ہر روز ایک نئی آواز، ایک نئی بات۔ کوئی اُسے خبردار کرتا، کوئی اُسے راستہ دکھاتا، اور کبھی کبھی کوئی بس اُس سے بات کرنا چاہتا۔ زہرہ نے ان آوازوں کو کبھی سنجیدہ نہیں لیا — جب تک کہ ایک دن، اُس نے آواز کو مان لیا۔ “آج اسکول مت جانا، زہرہ۔ خطرہ ہے۔” یہ آواز مانوس سی تھی، جیسے ماں کی، جو برسوں پہلے دنیا سے جا چکی تھی۔ زہرہ نے بہانہ بنا کر چھٹی کر لی۔ بعد میں پتہ چلا کہ اسکول کی بس کو حادثہ پیش آیا — کئی بچے زخمی ہو گئے۔ اس دن کے بعد زہرہ نے ان آوازوں کو سننا شروع کیا، جیسے وہ اُس کی زندگی کا حصہ ہوں۔ کبھی وہ اُسے کسی مصیبت سے بچاتیں، کبھی کسی کو بچانے کا راستہ دکھاتیں۔ ایک دن اُس نے اپنے والد سے ذکر کیا۔ وہ چونکے، اور آہستہ سے بولے: “تمہاری نانی کو بھی ایسی ہی آوازیں آتی تھیں… وہ لوگوں کی مدد کیا کرتی تھیں۔ شاید یہ تمہیں اُن سے وراثت میں ملا ہے۔” زہرہ ن...

نگران

نگران چھٹیوں کی یہ گرمیوں کی دوپہر تھی جب آمنہ کو پرانے کتب خانے میں ایک عجیب سی کتاب ملی — “نگران”. جلد بھاری تھی، اور صفحے پیلے پڑ چکے تھے، لیکن سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ کتاب میں کوئی مصنف درج نہیں تھا۔ آمنہ نے کتاب کھولی، اور پڑھنا شروع کیا۔ یہ کسی لڑکی کی کہانی تھی جو خود آمنہ جیسی ہی تھی — وہی عمر، وہی شہر، اور وہی حالات۔ ہر صفحے پر واقعات ایسے لکھے تھے جیسے کسی نے اُس کی زندگی کے لمحے لمحے کو نوٹ کیا ہو۔ پہلے تو آمنہ کو لگا یہ اتفاق ہے، لیکن پھر ایک دن ایسا واقعہ لکھا آیا جو اُس نے ابھی تک جیا ہی نہیں تھا: “کل شام چھ بجے ایک اجنبی تم سے پارک میں ملے گا — وہ تمہیں راستہ دکھائے گا، مگر فیصلہ تمہارا ہوگا۔” آمنہ کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ کیا واقعی؟ کیا یہ ممکن ہے؟ اگلی شام، وہ پارک پہنچی۔ اور واقعی — ایک اجنبی نوجوان، جو سیاہ کپڑوں میں تھا، اُس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ “تم آمنہ ہو؟” اُس نے پوچھا۔ “ہاں… لیکن تم کون ہو؟” “میں نگران ہوں۔ تمہاری زندگی دو راستوں پر کھڑی ہے — ایک وہ جو تم جانتی ہو، دوسرا وہ جو تم کبھی سوچ بھی نہیں سکتی۔ کتاب نے تمہیں خبردار کیا ہے، باقی فیصلہ تم پر ہے۔” آ...

بند دروازہ

  بند دروازہ ندیم ہر روز اُس پرانے، سنسان گھر کے سامنے سے گزرتا تھا جو برسوں سے بند پڑا تھا۔ محلّے والے کہتے تھے کہ اس گھر میں کبھی ایک عورت رہتی تھی — تنہا، خاموش، اور پراسرار۔ ایک دن وہ اچانک غائب ہو گئی، جیسے ہوا میں تحلیل ہو گئی ہو۔ ندیم کو ہمیشہ تجسس رہتا کہ اس گھر میں کیا چھپا ہے؟ ایک شام، جب آسمان پر بادل گرج رہے تھے اور ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی، ندیم نے ہمت کی اور اُس بند دروازے کی طرف بڑھا۔ دروازہ زنگ آلود تھا، مگر تھوڑا سا دھکا دینے پر کُھل گیا۔ اندر گھپ اندھیرا تھا، مگر ایک جلتی ہوئی موم بتی میز پر رکھّی تھی، جیسے کوئی اُس کا انتظار کر رہا ہو۔ “کون ہے؟” ندیم کی آواز گونجی۔ کوئی جواب نہ آیا۔ وہ آہستہ آہستہ اندر داخل ہوا۔ دیواروں پر پرانی تصویریں تھیں، کچھ عورت کی، کچھ ایک چھوٹے بچے کی۔ ایک تصویر کے نیچے لکھا تھا: “ماہین اور علی — ہمیشہ ساتھ” ندیم کا دل دھڑکنے لگا۔ ایک لمحے کو اُسے محسوس ہوا کہ کوئی اس کے پیچھے کھڑا ہے۔ اُس نے مڑ کر دیکھا — ایک دھندلی سی عورت کی شبیہ، آنکھوں میں دکھ اور چہرے پر سکون۔ “تم کون ہو؟” ندیم نے گھبرا کر پوچھا۔ عورت نے آہستہ سے کہا، “میں ماہین ہو...