سیاہ چادر
سیاہ چادر
رمضان کی آخری رات تھی۔ پورا شہر روشنیوں سے جگمگا رہا تھا، لیکن ان روشنیوں سے دور، شہر کے پسماندہ علاقے میں ایک لڑکی خاموشی سے چادر اوڑھے بیٹھی تھی — اس کا نام نور تھا۔
نور کی آنکھوں میں اندھیرا تھا، لیکن دل میں امید کی کرن۔ وہ نابینا تھی، مگر زندگی سے بے خبر نہیں۔ روزہ رکھتی، قرآن سنتی، اور لوگوں کی باتوں میں خدا کی مصلحت ڈھونڈتی۔
اُس کی ماں ایک گھروں میں صفائی کرنے والی عورت تھی۔ عید کے قریب کام زیادہ ہو جاتا، اور نور دن بھر تنہا بیٹھی رہتی۔ لیکن اُس رات کچھ خاص تھا۔
دروازے پر دستک ہوئی۔ نور نے آہستہ سے پوچھا:
“کون؟”
ایک نرم مردانہ آواز آئی:
“میں رضوان ہوں… آپ کی ماں کے کام والی بیگم صاحبہ کا بیٹا۔ امی نے کہا تھا کہ آپ کو عید کے کپڑے دینے آؤں۔”
نور نے دروازہ کھولا تو رضوان نے ایک شاپر اُس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ اُس کی آواز میں ہچکچاہٹ تھی، جیسے کچھ کہنا چاہتا ہو۔
“آپ… آپ واقعی کچھ دیکھ نہیں سکتیں؟”
نور مسکرائی۔ “نہیں، لیکن محسوس کر سکتی ہوں۔”
رضوان خاموش ہو گیا، پھر بولا:
“میں نے آپ کو پہلی بار سنا تھا، جب آپ قرآن سنا رہی تھیں… تب ہی دل میں کچھ بدل گیا تھا۔”
نور کا دل زور سے دھڑکا۔
“میں ایک اندھی لڑکی ہوں، رضوان… زندگی میں روشنی نہیں دے سکتی۔”
“روشنی آپ کی آواز میں ہے، آپ کی سوچ میں۔ اور میں چاہتا ہوں کہ میری زندگی کا راستہ بھی اُسی روشنی سے روشن ہو۔”
نور نے چادر کو مضبوطی سے تھاما، آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے — وہ آنکھیں جو کچھ نہیں دیکھتیں، مگر سب کچھ جان لیتی تھیں۔
اگلی صبح عید تھی۔ نور نے وہی کپڑے پہنے، اور دروازے کے باہر قدم رکھا — برسوں بعد۔
پورے محلے میں ایک نئی بات پھیل گئی — “نور نے باہر جانا شروع کر دیا ہے!”
کسی نے پوچھا: “کیوں؟”
ایک بڑھیا نے جواب دیا:
“کہتے ہیں، سیاہ چادر میں روشنی آ گئی ہے… کسی نے اُسے دیکھ لیا، ایسے جیسے خدا دیکھتا ہے — بغیر آنکھوں کے۔”