نگران
نگران
چھٹیوں کی یہ گرمیوں کی دوپہر تھی جب آمنہ کو پرانے کتب خانے میں ایک عجیب سی کتاب ملی — “نگران”. جلد بھاری تھی، اور صفحے پیلے پڑ چکے تھے، لیکن سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ کتاب میں کوئی مصنف درج نہیں تھا۔
آمنہ نے کتاب کھولی، اور پڑھنا شروع کیا۔ یہ کسی لڑکی کی کہانی تھی جو خود آمنہ جیسی ہی تھی — وہی عمر، وہی شہر، اور وہی حالات۔ ہر صفحے پر واقعات ایسے لکھے تھے جیسے کسی نے اُس کی زندگی کے لمحے لمحے کو نوٹ کیا ہو۔
پہلے تو آمنہ کو لگا یہ اتفاق ہے، لیکن پھر ایک دن ایسا واقعہ لکھا آیا جو اُس نے ابھی تک جیا ہی نہیں تھا:
“کل شام چھ بجے ایک اجنبی تم سے پارک میں ملے گا — وہ تمہیں راستہ دکھائے گا، مگر فیصلہ تمہارا ہوگا۔”
آمنہ کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ کیا واقعی؟ کیا یہ ممکن ہے؟
اگلی شام، وہ پارک پہنچی۔ اور واقعی — ایک اجنبی نوجوان، جو سیاہ کپڑوں میں تھا، اُس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
“تم آمنہ ہو؟” اُس نے پوچھا۔
“ہاں… لیکن تم کون ہو؟”
“میں نگران ہوں۔ تمہاری زندگی دو راستوں پر کھڑی ہے — ایک وہ جو تم جانتی ہو، دوسرا وہ جو تم کبھی سوچ بھی نہیں سکتی۔ کتاب نے تمہیں خبردار کیا ہے، باقی فیصلہ تم پر ہے۔”
آمنہ گھبرا گئی۔ “اور اگر میں نہ مانوں؟”
“تو تم اپنی کہانی خود لکھو گی، بغیر کسی رہنمائی کے۔”
اُس نے کچھ لمحے سوچا، پھر بولی: “میں اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرنا چاہتی ہوں، کتاب کے بغیر۔”
اجنبی نے مسکرا کر سر ہلایا، اور بولا: “تو تم تیار ہو… نگران کی مداخلت کے بغیر جینے کے لیے۔”
وہ پلٹ کر چلا گیا۔
اگلے دن، آمنہ نے وہ کتاب واپس کتب خانے میں رکھ دی۔ لیکن اس بار، کتاب کے سرورق پر کچھ نیا لکھا تھا:
“مصنف: آمنہ۔”
وہ چونکی — اُس کی زندگی کی کتاب اب اُس کے ہاتھ میں تھی، اور وہی اُس کی لکھاری تھی۔