آواز
آواز
زہرہ کو آوازیں سنائی دیتی تھیں — ایسی آوازیں جنہیں کوئی اور نہیں سن سکتا تھا۔ نہ وہ پاگل تھی، نہ وہم کا شکار۔ وہ بس… مختلف تھی۔
شروع میں تو یہ آوازیں دھندلی سی ہوتی تھیں، جیسے کوئی فاصلے سے اُس کا نام پکار رہا ہو۔ پھر یہ واضح ہونے لگیں۔ ہر روز ایک نئی آواز، ایک نئی بات۔ کوئی اُسے خبردار کرتا، کوئی اُسے راستہ دکھاتا، اور کبھی کبھی کوئی بس اُس سے بات کرنا چاہتا۔
زہرہ نے ان آوازوں کو کبھی سنجیدہ نہیں لیا — جب تک کہ ایک دن، اُس نے آواز کو مان لیا۔
“آج اسکول مت جانا، زہرہ۔ خطرہ ہے۔”
یہ آواز مانوس سی تھی، جیسے ماں کی، جو برسوں پہلے دنیا سے جا چکی تھی۔
زہرہ نے بہانہ بنا کر چھٹی کر لی۔ بعد میں پتہ چلا کہ اسکول کی بس کو حادثہ پیش آیا — کئی بچے زخمی ہو گئے۔
اس دن کے بعد زہرہ نے ان آوازوں کو سننا شروع کیا، جیسے وہ اُس کی زندگی کا حصہ ہوں۔ کبھی وہ اُسے کسی مصیبت سے بچاتیں، کبھی کسی کو بچانے کا راستہ دکھاتیں۔
ایک دن اُس نے اپنے والد سے ذکر کیا۔ وہ چونکے، اور آہستہ سے بولے:
“تمہاری نانی کو بھی ایسی ہی آوازیں آتی تھیں… وہ لوگوں کی مدد کیا کرتی تھیں۔ شاید یہ تمہیں اُن سے وراثت میں ملا ہے۔”
زہرہ نے اس صلاحیت کو ایک نعمت سمجھا۔ وہ خاموشی سے لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لانے لگی — کبھی کسی کو ایک گمشدہ چیز دلوا کر، کبھی کسی کو فیصلے کی صحیح راہ دکھا کر۔
لیکن ایک دن ایک نئی آواز آئی — کچھ مختلف، کچھ اجنبی۔
“تم بہت سن چکی، اب ہماری باری ہے۔”
زہرہ نے چونک کر اِدھر اُدھر دیکھا۔ یہ آواز مدھم نہ تھی، بلکہ گونج دار تھی، جیسے کئی آوازیں ایک ساتھ بول رہی ہوں۔
“کون ہو تم؟” اُس نے ہمت کر کے پوچھا۔
“ہم وہ ہیں جو تمہیں آوازیں دیتے ہیں… لیکن اب تمہیں ایک فیصلہ کرنا ہے — سننا بند کرو، یا ہمارے ساتھ چلنا۔”
زہرہ خاموش ہو گئی۔ ایک طرف وہ دنیا تھی، عام زندگی، اور دوسری طرف ایک نامعلوم راستہ۔
“کیا میرے پاس تیسرا راستہ نہیں؟” اُس نے دھیرے سے کہا۔
خاموشی چھا گئی۔
پھر وہی پہلی آواز آئی — ماں کی:
“راستے تم خود بناتی ہو، بیٹا… ہم صرف رہنمائی کرتے ہیں۔”
زہرہ نے آنکھیں بند کیں، گہری سانس لی، اور کہا:
“میں اپنی آواز بننا چاہتی ہوں۔ دوسروں کی بھی…”
اور اُس دن کے بعد، زہرہ ایک “خاموش نجات دہندہ” بن گئی۔ کوئی اُسے نہ جانتا، مگر بہت سے لوگ اُسے دعاؤں میں یاد رکھتے۔