خوداعتمادی کی جیت
خوداعتمادی کی جیت
ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک لڑکا رہتا تھا جس کا نام بلال تھا۔ بلال بہت شرمیلا تھا۔ وہ اسکول میں چپ چاپ بیٹھتا، کسی سے بات نہیں کرتا، اور ہمیشہ خود کو دوسروں سے کم تر سمجھتا تھا۔
استاد جب بھی سوال پوچھتے، بلال دل میں جواب جانتا تھا، مگر بولنے کی ہمت نہ ہوتی۔ دوسرے بچے اسے “ڈرپوک” کہتے اور اکثر مذاق اُڑاتے۔ بلال کو یہ سب بہت برا لگتا، مگر وہ خاموش رہتا۔
ایک دن اسکول میں اعلان ہوا کہ اگلے ہفتے تقریری مقابلہ ہوگا۔ سب بچے پرجوش تھے، لیکن بلال کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ وہ گھر آیا اور اپنی ماں سے کہا، “امّی، میں یہ نہیں کر سکتا۔ سب میرا مذاق اُڑائیں گے۔”
ماں نے نرمی سے بلال کا ہاتھ تھاما اور کہا، “بیٹا، ہر انسان میں کوئی نہ کوئی خاص بات ہوتی ہے۔ اگر تم خود پر یقین رکھو گے، تو دنیا تمہیں سنجیدگی سے لے گی۔”
بلال نے پہلی بار خود کو آزمانے کا فیصلہ کیا۔ اگلے دن وہ لائبریری گیا، ایک تقریر منتخب کی، اور آئینے کے سامنے روز پریکٹس کرنے لگا۔ وہ غلطیاں کرتا، رکتا، ہچکچاتا، مگر ہار نہیں مانتا۔
بالآخر مقابلے کا دن آ گیا۔ سب طالبعلم خوب تیاری کے ساتھ آئے۔ بلال کی باری سب سے آخر میں تھی۔ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، ہاتھ کانپ رہے تھے، مگر وہ اسٹیج پر گیا، مائیک تھاما اور بولنا شروع کیا۔
شروع میں آواز دھیمی تھی، مگر پھر اُس کی آواز میں اعتماد آتا گیا۔ اُس نے صاف، بامعنی اور جذبات سے بھرپور تقریر کی۔ پورا ہال خاموشی سے سن رہا تھا۔
تقریر ختم ہوئی تو پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ اساتذہ نے کھڑے ہو کر داد دی، اور بلال کو پہلی پوزیشن ملی۔
اس دن کے بعد بلال کو کسی نے “ڈرپوک” نہیں کہا۔ وہ بچوں کا پسندیدہ دوست بن گیا، اور ہر تقریری مقابلے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگا۔ سب کو اس سے ایک بات سیکھنے کو ملی — خود پر یقین سب سے بڑی طاقت ہے.