سچائی کا انعام
سچائی کا انعام
ایک گاؤں میں ایک ننھا لڑکا رہتا تھا جس کا نام احمد تھا۔ احمد نہایت ذہین اور محنتی تھا، مگر اس کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا تھا۔ گاؤں کے سب بڑے اسے پسند کرتے تھے کیونکہ وہ ہمیشہ سچ بولتا اور دوسروں کی مدد کرتا۔
ایک دن احمد اسکول جا رہا تھا کہ راستے میں اسے ایک چھوٹا سا بٹوہ پڑا ہوا ملا۔ اس نے بٹوہ اٹھایا اور دیکھا کہ اس میں کافی رقم اور ایک شناختی کارڈ تھا۔ احمد کو معلوم تھا کہ یہ کسی کا کھویا ہوا بٹوہ ہے، اس لیے وہ فوراً گاؤں کے چوکیدار کے پاس گیا اور سارا ماجرا سنایا۔
چوکیدار نے بٹوہ لیا اور کہا، “بیٹا، تم نے بہت اچھا کام کیا۔ آج کل کے بچے ہوتے تو یہ رقم خود رکھ لیتے۔”
احمد مسکرایا اور بولا، “ابو کہتے ہیں کہ ایمانداری سب سے بڑی دولت ہے۔”
کچھ ہی دیر میں ایک بزرگ شخص چوکیداری چوکی پر آئے۔ ان کی آنکھوں میں پریشانی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا بٹوہ کہیں گر گیا ہے۔ چوکیدار نے ان سے نام اور شناختی کارڈ کی تفصیل پوچھی، اور جب سب کچھ درست نکلا تو بٹوہ انہیں واپس کر دیا۔
بزرگ آدمی احمد کی طرف دیکھ کر حیرت سے بولے، “بیٹا، یہ تم نے مجھے واپس کیا؟”
احمد نے اثبات میں سر ہلایا۔ بزرگ بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے احمد کو ایک انعام دینا چاہا، مگر احمد نے ادب سے کہا، “جناب، میں نے تو صرف اپنا فرض ادا کیا ہے۔”
بزرگ نے پیار سے کہا، “تم جیسے بچے قوم کا فخر ہیں۔ تمہارے والدین بہت خوش نصیب ہیں۔”
یہ بات گاؤں میں پھیل گئی اور سب احمد کی تعریف کرنے لگے۔ اسکول میں بھی اسے ایمانداری کے انعام سے نوازا گیا۔
اس دن کے بعد گاؤں کے سب بچے احمد کو دیکھ کر سچ بولنے اور ایمانداری سیکھنے لگے۔ احمد نے اپنے عمل سے سب کو سکھا دیا کہ سچائی اور ایمانداری کبھی ضائع نہیں جاتی، بلکہ اس کا پھل ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے