خالی کرسی

خالی کرسی

دفتر کی کھڑکی سے باہر بارش تیز ہو رہی تھی۔ راحیل نے اپنی ٹیبل پر رکھی کافی کا کپ اٹھایا، لیکن ہاتھ کانپ رہے تھے۔ آج وہ صبح سے اسی خالی کرسی کو گھور رہا تھا جو اس کے سامنے کبھی اس کے بہترین دوست علی کی تھی۔  

تین ماہ پہلے جب کمپنی نے "بڑی بچت" کے نام پر ملازمین کی چھٹنی شروع کی تو علی نے کہا تھا: "گھبرانا نہیں، ہم دونوں کو ایک ساتھ رکھا جائے گا۔" لیکن کل شام 5 بجے، جب ایچ آر نے علی کو بلایا، راحیل نے اس کے چہرے سے ہی سب پڑھ لیا تھا۔ وہ مسکرا کر واپس آیا تھا، اپنی میز صاف کی، اور کہا: "کل میں نہیں آؤں گا۔"  

راحیل نے اس رات علی کو فون کیا تو اس کی بیوی نے روتی ہوئی بتایا کہ وہ گھر نہیں آیا۔ صبح پولیس نے دریائے راوی کے کنارے اس کا بٹوا پایا، جس میں ایک نوٹ تھا

"میں ناکام ہوں۔"

✍️ کہانی کا سبق:

یہ کہانی اس المیے پر روشنی ڈالتی ہے کہ جب معاشرہ اور کام کی جگہیں نفسیاتی صحت کو نظرانداز کرتی ہیں تو کیا ہوتا ہے۔ نوکری چھننا صرف آمدنی نہیں، کسی کی خود اعتمادی بھی چھین لیتا ہے۔  

Popular posts from this blog

Stylish aur Comfortable Sandals Ab Sirf Rs. 308 Mein!

Qurbani karne ka tareeqa (طریقہ قربانی)

Mini Portable Fan 🥶