آخری خط
آخری خط
عائشہ نے میز پر رکھا ہوا پرانا لکڑی کا ڈبہ کھولا۔ اس میں رکھے گئے خط پر وقت کی گرد جم چکی تھی، لیکن سیاہی ابھی بھی واضح تھی۔ یہ خط اُس شخص کا تھا جسے وہ برسوں پہلے چھوڑ آئی تھی — فیصل۔
“عائشہ،
میں جانتا ہوں تم نے مجھے چھوڑنے کا فیصلہ دل سے کیا ہے، مگر ایک بار میرے دل کی سُن لو۔ میں نے تمہیں ہمیشہ سمجھنے کی کوشش کی، مگر شاید وقت کم تھا، یا ہم دونوں جلدباز تھے۔ تمہاری خاموشی نے میرے لفظوں کو مار دیا۔ میں نے خواب دیکھے تھے — تمہارے ساتھ زندگی گزارنے کے۔ مگر تم ان خوابوں سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں چلی گئیں، اور میں وہیں رہ گیا۔
آج جب تم یہ خط پڑھ رہی ہو گی، شاید میں کہیں دور جا چکا ہوں — یا شاید تمہاری یادوں میں بھی نہ رہوں۔ لیکن میں چاہتا ہوں، تم خوش رہو۔ اگر کبھی میرا خیال آئے، تو بس مسکرا لینا، یہی میرے لیے کافی ہو گا۔
تمہارا — فیصل”
عائشہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اُس نے فیصل کو کبھی جواب نہیں دیا تھا۔ اُس وقت کی ضد، خود داری اور انا نے اُسے روکے رکھا تھا۔ آج، برسوں بعد، فیصل کا خط کھول کر اُس نے ماضی کے زخموں کو چُھو لیا۔
اگلے دن وہ قبرستان گئی۔ پرانا، خاموش سا کونا، جہاں فیصل کی قبر تھی۔ ہاتھ میں خط تھا اور دل میں پچھتاوا۔ اُس نے خط کو قبر پر رکھا، اور آہستہ سے کہا:
“میں نے تمہارا خط دیر سے پڑھا، فیصل… مگر تمہاری محبت ہمیشہ میرے دل میں زندہ رہی۔”
ہوا کے جھونکوں نے خط کو تھپکایا، جیسے وقت بھی اُس لمحے کو قبول کر رہا ہو۔